دنیا میں محبت کے سینکڑوں رنگ اور ہزاروں کمالات ہیں ۔ یہ محبت کے لین دین سے ہی تو دنیا خوبصورت ہے ورنہ نفرتوں کی پھیلتی ہوئی وبا ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ، ورنہ ہر رنگ پھیکا ہوتا ، ہر صبح غمزدہ اور ہر شام بے نام ہوتی ۔ محبت تو گھر کے صحن میں اتری اُس چڑیا کی چہچہاہٹ ہے جو صبح کی نوید سناتی ہے ۔ محبت تو ڈائری کے ورق پر لوٹتی چاندنی ہے۔جو الفاظ میں ڈھل جاتی ہے۔محبت تو کسی پرانی ضخیم کتاب میں پڑی پھول کی مرجھائی پتیاں ہیں محبت تو کاغذ کی اک کشتی کی مانند ہے۔نازک اور بے بس !! محبت تو اک چھتری ہے جس کے ساۓ تلے رہ کر وقت کی کڑکتی دھوپ اور برستی گھٹاؤں سے بچا جا سکتا ہے محبت تو اک دعا ہے جو اعزازاً ملتی ہے نہ کہ خیرات میں ۔محبت دعووں اور وعدوں کا نام نہیں بلکہ خلوص کا شربت ہے اور انسان کو محبت ہی خلوص کے حقیقی جزبے سے آشنا کر سکتی ہے۔ اور بڑی بات یہ کہ محبت خیال ہوتا ہے وجود نہیں۔یعنی محبت روبرو ہونا نہیں ہے۔ جب خیال میں وجود کی آمیزش ہو جاۓ تو محبت ، محبت نہیں رہتی بلکہ وحشت بن جاتی ہے۔ہاں !! محبت کے سینکڑوں رنگ اور ہزاروں کمالات ہیں.
( یہ خط اس نے اُسے مارچ 2025 میں عید کے موقع پر لکھا تھا جس کے بعد وہ کراچی کام کی غرض سے جانے لگا تھا۔) پیاری۔ پھر سے عید مبارک! انتظار۔ کسی انتہائی مختصر لمحے کا انتظار بھی کتنا جان لیوا ہوتا ہے۔ وہ لمحہ کہ جس کا برسوں آپ نے انتظار کیا ہو۔ وہ سنگِ میل کہ جس کے بعد فراق کی سست گھڑی پھر سے چل پڑنے کا گمان ہو۔ وہ خیال کہ جو فرض کی ہوئی خوبصورتی سے زیادہ خوبصورت ہو تو میں وقت کے رُک جانے کی دعا کیوں نا کروں چاہے سورج سوا نیزے پر ہو اور وقت کی بڑی سوئی پگل جائے اور چاہے میرے خواب مزید دس سال دوردکھنے لگیں۔ ایسے ہی اک لمحے کا میں نے انتظار کیا۔ تمہارا انتظار کیا۔ میں ںے خیال کیا تھا کہ تم نےآج سیاہ رنگ کا لباس اور سفید جھمکے پہنےہوں گے۔ تمہاری آنکھوں کی گہرائی کے بارے سوچا۔ تم سے کیا کہنا ہے۔ کیا سننا ہے۔ سب سوچ رکھا تھا۔ آج کے سارے پلینز کینسل کر کہ تمہارا انتظار کیا میں نے۔ تمہاری آواز کی لطافت کو محسوس کیا۔ بال سنوارے۔ تمہارا پسندیدہ پرفیوم لگایا۔۔۔ یقین مانو وہ لمحہ میری فرض کی ہوئی خوبصورتی سے زیادہ خوبصورت تھا۔ تمہاری آنکھیں زیادہ گہری تھیں اور کاجل کا تو خیال ہ...

Comments
Post a Comment