ابنِ آدم کی مشہور بے وقوفوں میں سے ایک دوسروں کے ساتھ توقعات کا رکھنا بھی ہے۔ چاہے وہ وقت ہو یا وقت کی رو بہتا کوئ اور ۔ کبھی انسان کچھ الفاظ کی توقع کرتا ہے اور کبھی کسی انجام یا رویہ کی ۔ کبھی آندھیوں سے سکون مانگتا ہے اور کبھی زندگی سے آسانیاں ۔ اور انہی توقعات کو لیے ، اسی انتظار میں وہ زندگی کی قیمتی گھڑیاں ضائع کر دیتا ہے ۔ اور پھر اسے امید کہتا ہے ، اسے اپنا اعتماد اور بھروسہ گردانتا ہے ۔۔۔
"مجھے امید ہے وہ میری ہاں میں ہاں ملاۓ گا "
" مجھے یقین ہے کہ فلاں میرا ساتھ دے گا "
"مجھے اُس کے کہنے پر بھروسہ ہے "
"میرا اعتماد ہے اس پر ، وہ مجھے اکیلا نہیں چھوڑے گا "
اگر تو آپ کی امید ، یقین اور اعتماد یعنی توقعات پر اک شخص پورا اترتا ہے تو آپ کی اُس شخص سے توقعات مزید مضبوط ہو جائیں گی۔ مگر مستقبل میں اک ہلکی سی رنجش بھی آپ کو ٹھیس پہنچاۓ گی ۔ آپ زندگی کا وہ لمحہ ہیں بھول پائیں گے جب آپ کو وہ اعتماد ملا تھا ۔ جس گھڑی آپ نے امید اور یقین کے بدلے سکون پایا تھا ۔ آپ اپنے ماضی سے نکل نہیں پائیں گے ۔اور اگر !! آپ کی توقعات کو اسی لمحے ٹھیس پہنچ جاۓ اعتماد کے حقیقی جزبے سے آپ کا "اعتماد" آٹھ جاۓ گا ۔
یہ کہا جاتا ہے نا کہ میرا دنیا سے اعتماد اٹھ گیا ہے ، مسئلہ اعتماد کے اٹھنے کا نہیں ہے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ آپ نے اعتماد کیا ۔ اور دوسرے لفظوں میں آپ نے توقع پالی۔ یہ جو کہتے ہیں نا کہ میرا یقین اٹھ گیا ہے ۔سوال بے یقینی کا نہیں ہے ، سوال یہ ہے کہ آپ نے یقین کیوں کیا !!
توقع کے اس حسین طلسم سے نکلیے۔ آپ کبھی خوش نہیں رہ پائیں گے۔ یہ وہ حسین خواب ہوتے ہیں جن کو آپ حقیقت کے روپ میں دیکھنا چاہتے ہیں۔
خیر !! میں نے اعتماد ، امید اور یقین کی بات کی تھی تو ان عظیم جذبوں سے آپ کو روشناس کراتا چلوں تو جملہ ایک ہی ہے کہ ان جزبوں کا رُخ اس ذات کی جانب موڑ دیجیے جس نے آپ کو ان جذبات سے نوازا ہے ہے ۔اعتماد بھی اسی ذات پر کریں ، امید بھی اسی سے لگائیں اور یقین بھی اللّٰہ پر ہی رکھیں۔
"مجھے امید ہے وہ میری ہاں میں ہاں ملاۓ گا "
" مجھے یقین ہے کہ فلاں میرا ساتھ دے گا "
"مجھے اُس کے کہنے پر بھروسہ ہے "
"میرا اعتماد ہے اس پر ، وہ مجھے اکیلا نہیں چھوڑے گا "
اگر تو آپ کی امید ، یقین اور اعتماد یعنی توقعات پر اک شخص پورا اترتا ہے تو آپ کی اُس شخص سے توقعات مزید مضبوط ہو جائیں گی۔ مگر مستقبل میں اک ہلکی سی رنجش بھی آپ کو ٹھیس پہنچاۓ گی ۔ آپ زندگی کا وہ لمحہ ہیں بھول پائیں گے جب آپ کو وہ اعتماد ملا تھا ۔ جس گھڑی آپ نے امید اور یقین کے بدلے سکون پایا تھا ۔ آپ اپنے ماضی سے نکل نہیں پائیں گے ۔اور اگر !! آپ کی توقعات کو اسی لمحے ٹھیس پہنچ جاۓ اعتماد کے حقیقی جزبے سے آپ کا "اعتماد" آٹھ جاۓ گا ۔
یہ کہا جاتا ہے نا کہ میرا دنیا سے اعتماد اٹھ گیا ہے ، مسئلہ اعتماد کے اٹھنے کا نہیں ہے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ آپ نے اعتماد کیا ۔ اور دوسرے لفظوں میں آپ نے توقع پالی۔ یہ جو کہتے ہیں نا کہ میرا یقین اٹھ گیا ہے ۔سوال بے یقینی کا نہیں ہے ، سوال یہ ہے کہ آپ نے یقین کیوں کیا !!
توقع کے اس حسین طلسم سے نکلیے۔ آپ کبھی خوش نہیں رہ پائیں گے۔ یہ وہ حسین خواب ہوتے ہیں جن کو آپ حقیقت کے روپ میں دیکھنا چاہتے ہیں۔
خیر !! میں نے اعتماد ، امید اور یقین کی بات کی تھی تو ان عظیم جذبوں سے آپ کو روشناس کراتا چلوں تو جملہ ایک ہی ہے کہ ان جزبوں کا رُخ اس ذات کی جانب موڑ دیجیے جس نے آپ کو ان جذبات سے نوازا ہے ہے ۔اعتماد بھی اسی ذات پر کریں ، امید بھی اسی سے لگائیں اور یقین بھی اللّٰہ پر ہی رکھیں۔

Comments
Post a Comment