آج جب میں ظالم کی بے حسی اور مظلوم کی بے بسی کے متعلق سوچتا ہوں تو گھِن آتی ہے کہ کیسے اک امیر زادہ اک بے بس ، بے کس پر اپنی برتری کا زہر اگلتا ہے اور اک غریب احساسِ کمتری کے پہاڑ تلے دبا جاتا ہے ۔ اک امیر رئیس کسی غریب سائل کو دس روپے سے زیادہ کیوں نہیں دیتا ؟ آخر کیا وجہ ہے کہ گاڑی میں بیٹھے اک شہزادے کے پاس فقیر اپنی عزت کی قیمت مانگتا ہے اور اُسے صرف نگاہِ حقارت ملتی ہے ؟ کیوں امیر ، غریبوں کے دن استعمال کرتے ہوۓ نگاہِ عالم میں مقام پا لیتے ہیں اور انہیں پھر بھی اک حقیر ملازم کا لقب دیتے ہیں ؟کیوں اک غریب ملازمت کے لیے دھکے کھاۓ اور امیر صرف دو نوٹ لگاۓ ؟ جبکہ امیر بھی مسلم ، غریب بھی مسلمان ، امیر بھی انسان اور غریب بھی !! وجہ صرف اور صرف یہ ہے انسان کی نظر اُخروی نتائج کو بالاۓ طاق رکھتے ہوۓ غریبوں ، مفلسوں اور فقیروں کے پھٹے پرانے کپڑوں گھسے جوتوں اور محدود وسائل پر سے گزرتی ہوئی دھوپ میں چمکتی گاڑیاں ، قیمتی لباس اور کوٹھی بنگلوں پر آ ٹھہر جاتی ہے کیونکہ دولت اور شہرت ہی عزت کا معیار بن چکا ہے یہ ایک ایسی آہنی دیوار بن چکی ہے کہ اس کو گرانا نا ممکن ہو چکا ہے
اب سمجھیے کہ اللّٰہ کیا چاہتا ہے ۔ جب دولت امیری اور غریبی اللّٰہ ہی کی دین ہے تو پھر یہ بے بسی اور بے حسی کیا معنی ؟! اللّٰہ تو آزماتا ہے! کسی کو دولت کے پہاڑ دیتا ہے اور کوئ غربت کی چکی میں پِستا ہے ۔ اگر امیر اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کو اُس کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو وہ دولت بھی پاۓ گا اور شہرت بھی!اور اجر بھی جو اسے روزِ جزا کو سُرخُرو کرے گا اور اک غریب حُزن و ملال کے بجاۓ صبر و شکر دکھاۓ تو وہ عزت ضرور پاۓ گا اور دولت اگر نہ پا سکا تو جنت میں اِس کے بدلے بہت کچھ پاۓ گا اور خدا کا تو اٹل قانون ہے ۔۔۔!!!
اب سمجھیے کہ اللّٰہ کیا چاہتا ہے ۔ جب دولت امیری اور غریبی اللّٰہ ہی کی دین ہے تو پھر یہ بے بسی اور بے حسی کیا معنی ؟! اللّٰہ تو آزماتا ہے! کسی کو دولت کے پہاڑ دیتا ہے اور کوئ غربت کی چکی میں پِستا ہے ۔ اگر امیر اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کو اُس کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو وہ دولت بھی پاۓ گا اور شہرت بھی!اور اجر بھی جو اسے روزِ جزا کو سُرخُرو کرے گا اور اک غریب حُزن و ملال کے بجاۓ صبر و شکر دکھاۓ تو وہ عزت ضرور پاۓ گا اور دولت اگر نہ پا سکا تو جنت میں اِس کے بدلے بہت کچھ پاۓ گا اور خدا کا تو اٹل قانون ہے ۔۔۔!!!

Comments
Post a Comment