Skip to main content
                                                     
وقت کی حقیقت

میں  بس کی کھڑکی سے گاڑیوں کی آمد و رفت ، درختوں پر سستاتے پرندوں کے غول ، سڑک کے کنارے ٹہلتی
بیوپاری اور چوک پر کھڑے مزدوروں اور   کو بڑی توجہ سے دیکھ رہا تھا اور  بیک وقت مسکرا بھی رہا تھا اور رو بھی رہا تھا ۔ اپنی بے بسی پر ۔ چاہ رہا تھا کہ جا کر ان سب سے ان کا حال پوچھوں مگر وقت نے مجھے اجازت نہیں دی  اور آنکھ جھپکتے میں ان سب مناظر کو پیجھے  چھوڑتا جا رہا تھا ۔ کیونکہ وقت تو سونے کی بھی قیمت لیتا ہے اور سوچنے پر بھی معاوضہ ۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ اللہ نے انسان کو اپنے نظام میں کیسا جکڑا ہوا ہے کہ اسے ہر صورت جینا ہے  ،  کبھی  لمحے اس کی کایا پلٹ دیتے اور کبھی وہ  اچھے وقتوں کی فقط تمنا میں ہی  عمرِ رواں کاٹ دیتا ہے۔ جب وقت اس کی توقعات پر پورا نہ اترے تو انسان کے پاس بے بسی کے سوا کوئی چارہ نہیں اور بہتر تو یہی ہے کہ انسان اس بے بسی میں مسکرا دے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ وقت کے ساتھ سمجھوتا کر لینے میں ہی عافیت ہے۔ اور ایک مسلمان کی حیثیت سے میرا ایمان ہے کہ وقت اک نعمت ہے ۔ اسے محبوب بنا لیں تو بہتر ہے کہ جس طرح محبوب کے ظلم  بلا  چوں چراں برداشت کر لیے جاتے ہیں  اسی  طرح وقت کے ستم   سہہ لینے  میں کیا قباحت ہے ۔ وقت خداۓ بزرگ وبرتر کا قانون ہے  کہ اس زد میں ہر کوئ آتا ۔ یہ قانون کائنات کے اک اک ذرے پر لاگو ہوتا ۔

Comments

Popular posts from this blog

کہانی: آخری ادھورا خط - قسط 3

( یہ خط اس نے اُسے مارچ 2025 میں عید کے موقع پر لکھا تھا جس کے بعد وہ کراچی کام کی غرض سے جانے لگا تھا۔)  پیاری۔ پھر سے عید مبارک! انتظار۔ کسی انتہائی مختصر لمحے کا انتظار بھی کتنا جان لیوا ہوتا ہے۔ وہ لمحہ کہ جس کا برسوں آپ نے انتظار کیا ہو۔ وہ سنگِ میل کہ جس کے بعد فراق کی سست گھڑی پھر سے چل پڑنے کا گمان ہو۔ وہ خیال کہ جو فرض کی ہوئی خوبصورتی سے زیادہ خوبصورت ہو تو میں وقت کے رُک جانے کی دعا کیوں نا کروں چاہے سورج سوا نیزے پر ہو اور وقت کی بڑی سوئی پگل جائے اور چاہے میرے خواب مزید دس سال دوردکھنے لگیں۔  ایسے ہی اک لمحے کا میں نے انتظار کیا۔ تمہارا انتظار کیا۔ میں ںے خیال کیا تھا کہ تم نےآج سیاہ رنگ کا لباس اور سفید جھمکے پہنےہوں گے۔ تمہاری آنکھوں کی گہرائی کے بارے سوچا۔ تم سے کیا کہنا ہے۔ کیا سننا ہے۔ سب سوچ رکھا تھا۔ آج کے سارے پلینز کینسل کر کہ تمہارا انتظار کیا میں نے۔ تمہاری آواز کی لطافت کو محسوس کیا۔ بال سنوارے۔ تمہارا پسندیدہ پرفیوم لگایا۔۔۔  یقین مانو وہ لمحہ میری فرض کی ہوئی خوبصورتی سے زیادہ خوبصورت تھا۔ تمہاری آنکھیں زیادہ گہری تھیں اور کاجل کا تو خیال ہ...

ان کہی

 ~ It was early spring, 1999, when the naked trees began to feel safe enough to pump life into tiny leaf buds. A lady sparrow had almost completed the nest on the louvered window of the dressing room. Amjad Chacha had restocked the kites as the sky grew clearer and the steady wind blew. 10 a.m. She was too excited to visit him. As she passed Chacha’s crowd, she released her finger from her mother’s hand and ran toward the rusty blue door. She was afraid of that grey dustbin, though—where they had found a snake’s skin last time. She ran past that dustbin and knocked—knock, knock... - - - She insisted on having lunch in a single plate with him. It was Chicken Pulao. Their love! They used to play all day long whenever they met—no homework. no tuition. That day, Sunday, 1999, 5 p.m. They were discussing their school and homework struggles, sitting under the Jamun tree after playing the whole day.  The elders were having chai and pakoray in the garden. Women were sharing their hect...

بارش

جب دھوپ کی حدت سے زمیں آگ اگل رہی تھی۔ مسافر سائباں ڈھونڈنے لگے۔ پرندوں نے ہجرت ترک کر دی۔تو رب تعالی نے اس تپتی دھوپ میں کام کرتے کسی مزدور کی دعا سن لی شاید کہ شمال سے گھٹائیں اٹھنے لگیں اور ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگیں۔ بزرگوں نے آسمان کی جانب نظریں جما لیں۔ ماوں نے  گھر کی گھڑکیوں پر سے پردے ہٹا لیے  اور دیکھتے ہی دیکھتے آسمان سیاہ ہو گیا۔ بجلی چمکی بادل گرجے۔ بچے ڈر کر گھروں کی جانب دوڑے۔ مائیں استغفار کا ورد کرنے لگیں اور بزرگ بچوں کو بہادری کا سبق دینے لگے۔ بارش برسنے لگی اور مٹی کی خوشبو سے فضا معطر ہو گئی۔  مٹی کی خوشبو سے یاد آیا -تب  تمہارا خیال آیا تھا۔ یونہی ہجر کی تمازت سے جب میرا حلق خشک ہونے لگتا ہے تو تمہاری یاد کا ہی سہارا رہتا ہے۔ تمہارے سنائے قصے یاد آنے لگتے ہیں۔   جب بارش خوب برس چکی اور باد صبا نے بادلوں کو لیے دوسرے شہر کا رخ کیا تو میں بھی تمہارا خیال اور ذہن میں بنی دھندلی سی تصویر کو لیے اس پہاڑ کے عقب میں نکل گیا - جہاں (یاد ہے تمہیں؟) جہاں اک چھوٹا سا پرسکون جنگل ہے جس کے وسط میں اک نہر بہتی ہے جو اکثر خشک رہتی ہےلیکن اس کی سطح بلند ت...