دور اک پہاڑ تھا
روشنیاں ٹمٹماتی دکھ رہی تھیں
رات تھی ۔۔۔
اک اونچا آسمان تھا ۔
جوں جوں رات بڑھ رہی تھی
افق کے اس پہاڑ پر
روشنیاں بھی بڑھ رہی تھیں ۔۔۔
ستارے بھی آسمان پر ۔۔۔
جیسے کوئ تہوار ہو ۔
رفتہ رفتہ
ہجوم جیسے بڑھ رہا ہو
وہ کچے مکانوں کے مکیں
کچھ "بدھو" سے لوگ تھے ۔
اک آگ کا الاؤ تھا ۔
وہ سب گِرد بیٹھے تھے
رات کی خاموشی میں
گونجتی مسکراہٹیں
ماضی کے احساسِ حسیں!!
وہ "جاہل" سے کچھ لوگ تھے
"آدابِ زندگی سے "آشنا
رات کی تاریکی میں ۔۔۔
بگڑے" ہوۓ بچے"
آنکھ مچولی کھیل رہے تھے
شہر کے ہوٹل برگر
ان سے بہت دور تھے ۔
مگر چہرے ان کے
مسکراہٹوں سے معمور تھے ۔
اور یہاں !!
شہر کی بے ہنگم زیست !!
فقط گزری چلی جا رہی تھی
بظاہر مسکراہٹوں کے پیچھے ،
ہر دل میں پنہاں طوفان تھے
آرزوئیں دن بہ دن بڑھ رہی تھیں ۔۔۔
محبتیں دن بہ دن گھَٹ رہی تھیں
سب کچھ تھا مگر کچھ بھی نہیں تھا
نہ ادب ، نہ آداب تھے
فضا میں تیرتے سراب تھے
آرام تھا مگر سکون نہیں تھا
مل بیٹھنے کا رواج نہ تھا
جو کل تلک عزیز تھے
رشتہ داری بیچ ڈالی
فاصلے بڑھ گۓ
آہ!! میں نہ اس دنیا کا نہ اُس دنیا کا
وہاں روشنیاں بھی رفتہ رفتہ
رات کے اندھیرے میں
تحلیل ہوتی دِکھ رہی تھیں
دھواں سا وہاں سے اٹھ رہا تھا ۔۔۔
شاید آگ بجھ گئ تھی
مجھے بھی اب اک کام تھا
شہر کی بے ہنگم زیست !!
میری منتظِر تھی
میں اُس کا منتظر تھا !!
روشنیاں ٹمٹماتی دکھ رہی تھیں
رات تھی ۔۔۔
اک اونچا آسمان تھا ۔
جوں جوں رات بڑھ رہی تھی
افق کے اس پہاڑ پر
روشنیاں بھی بڑھ رہی تھیں ۔۔۔
ستارے بھی آسمان پر ۔۔۔
جیسے کوئ تہوار ہو ۔
رفتہ رفتہ
ہجوم جیسے بڑھ رہا ہو
وہ کچے مکانوں کے مکیں
کچھ "بدھو" سے لوگ تھے ۔
اک آگ کا الاؤ تھا ۔
وہ سب گِرد بیٹھے تھے
رات کی خاموشی میں
گونجتی مسکراہٹیں
ماضی کے احساسِ حسیں!!
وہ "جاہل" سے کچھ لوگ تھے
"آدابِ زندگی سے "آشنا
رات کی تاریکی میں ۔۔۔
بگڑے" ہوۓ بچے"
آنکھ مچولی کھیل رہے تھے
شہر کے ہوٹل برگر
ان سے بہت دور تھے ۔
مگر چہرے ان کے
مسکراہٹوں سے معمور تھے ۔
اور یہاں !!
شہر کی بے ہنگم زیست !!
فقط گزری چلی جا رہی تھی
بظاہر مسکراہٹوں کے پیچھے ،
ہر دل میں پنہاں طوفان تھے
آرزوئیں دن بہ دن بڑھ رہی تھیں ۔۔۔
محبتیں دن بہ دن گھَٹ رہی تھیں
سب کچھ تھا مگر کچھ بھی نہیں تھا
نہ ادب ، نہ آداب تھے
فضا میں تیرتے سراب تھے
آرام تھا مگر سکون نہیں تھا
مل بیٹھنے کا رواج نہ تھا
جو کل تلک عزیز تھے
رشتہ داری بیچ ڈالی
فاصلے بڑھ گۓ
آہ!! میں نہ اس دنیا کا نہ اُس دنیا کا
وہاں روشنیاں بھی رفتہ رفتہ
رات کے اندھیرے میں
تحلیل ہوتی دِکھ رہی تھیں
دھواں سا وہاں سے اٹھ رہا تھا ۔۔۔
شاید آگ بجھ گئ تھی
مجھے بھی اب اک کام تھا
شہر کی بے ہنگم زیست !!
میری منتظِر تھی
میں اُس کا منتظر تھا !!

ماشا اللە
ReplyDeleteنظڕ بدور