ڈھلتی شام میں گھروں کو لوٹتے پرندوں کے جھنڈ ہوں یا صبح کی خنکی میں بادلوں کی باریک ردا سے پھوٹتی سورج کی کرنیں ، خاموش راتوں میں چمکتے ستارے ہوں یا سنہرے دریا میں ڈوبتا سورج ۔۔۔ دسمبر بہت خوبصورت ہے ۔۔۔ اور یہ گزرے ہوۓ سال کی اک تصویر قدرت کے آئینے میں دکھاتا ہے۔ یہ انسان کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے ۔ میں آج جب ٹھنڈے دماغ سے گزرے ہوۓ گیارہ ماہ اور پچھلے دسمبر کے سوچے ہوۓ کام دہراتا ہوں تو دل ہی دل میں پچھتا لیتا ہوں۔ کہ میں تو شاید اس سے پیچھے کھڑا ہوں ۔ میں تو اک قدم بھی نہیں بڑھا ۔ اپنی رفتار کا دنیا سے موازنہ کرتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ دنیا سے آگے نکلنے کی کوشش میں میں نے خود کو بھی گنوا دیا ۔ دنیا کے سحر میں ایسا لپٹا کہ اخلاق کے ضابطے بھول گیا ۔ میں اپنی خوشیوں کا قاتل آپ ٹھہرا ۔ تجربہ پوچھو تو سواۓ بے چینی کے کچھ نہیں پایا ۔ مجھے منفی سوچ کا مصداق نہ سمجھیے گا ۔ میرے پاس سواۓ کامیابیوں کے مثبت کچھ بھی نہیں ہے ۔ اور کامیابی تو کوئ اتنی بڑی کامیابی نہیں ہے ۔ آہ میرا آنے والا دن گزرے ہوۓ دن سے بدتر ٹھہرا ۔ بس !! ڈوبتا ابھرتا سورج ، گھٹتا بڑھتا چاند ، خوشی غمی کی آنکھ مچولی ، جاگتی سوتی آنکھ اور یوں سال تمام ہوا ۔ مختصر یہ کہ
کچھ نیا نہیں کہنے کو ۔
اب تو پرانا بھی کھو بیٹھا ہوں۔۔
تو کیا پھر سے آنے والے ماہ و سال کے لیے کچھ تہہ نہ کر لیا جاۓ ؟ ۔
کچھ اور جھوٹ بول لیے جائیں ۔ کچھ اور فیصلے کر لیے جائیں ۔ اور رب سے دعا کرتے ہیں کہ وہ مجھے ان فیصلوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرماۓ۔
کچھ نیا نہیں کہنے کو ۔
اب تو پرانا بھی کھو بیٹھا ہوں۔۔
تو کیا پھر سے آنے والے ماہ و سال کے لیے کچھ تہہ نہ کر لیا جاۓ ؟ ۔
کچھ اور جھوٹ بول لیے جائیں ۔ کچھ اور فیصلے کر لیے جائیں ۔ اور رب سے دعا کرتے ہیں کہ وہ مجھے ان فیصلوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرماۓ۔

Comments
Post a Comment