کامیابی اک آوارہ گرد عاشق کی طرح ہوتی ہے جو اس کے پیچھے بھاگتی ہے جو قابلیت اور علم کی طرف بھاگتا ہے ۔ جو اپنی لگن کی جانب دوڑتا ہے ۔کامیابی تو ایسوں کی راہ تکتی ہے ۔جن کی چاہت جستجو سے ہو نہ کہ منزل سے ۔ جن کی منزل صرف اے گریڈ لینا یا اپنے دوست کو نیچا دکھانا نہ ہو یا صرف انجنیئر ڈاکٹر بن کر آسمان کی جانب بھرے مجمعے کے سامنے کالی ٹوپیاں اچھالنا نہ ہو بلکہ جو لوگوں میں آسانیاں بانٹنا چاہتا ہو۔جس میں ناکامی کا خوف نہ ہو ۔ اس ناکامی کا خوف جو کی کامیابی تو ہے ہی نہیں ۔فائنل ایئر پراجیکٹ ہمت کی بات نہیں ہے بلکہ ناکامی سہنے کی ہمت ہو یہ بڑی بات ہے ۔۔میں اک انجنیئر یا ڈاکٹر بن جانے کو کامیابی نہیں سمجھتا ۔ صرف کار بنگلے کامیابی کی نشانی نہیں ہے ۔ بلکہ آپ ہیں آپ وہ نوجون جس نے کامیابی اور ناکامی کے صحیح معیار تشکیل دینے ہیں اور کامیابی تو پھر اک آوارہ گرد عاشق کی طرح ہوتی ہے !!
( یہ خط اس نے اُسے مارچ 2025 میں عید کے موقع پر لکھا تھا جس کے بعد وہ کراچی کام کی غرض سے جانے لگا تھا۔) پیاری۔ پھر سے عید مبارک! انتظار۔ کسی انتہائی مختصر لمحے کا انتظار بھی کتنا جان لیوا ہوتا ہے۔ وہ لمحہ کہ جس کا برسوں آپ نے انتظار کیا ہو۔ وہ سنگِ میل کہ جس کے بعد فراق کی سست گھڑی پھر سے چل پڑنے کا گمان ہو۔ وہ خیال کہ جو فرض کی ہوئی خوبصورتی سے زیادہ خوبصورت ہو تو میں وقت کے رُک جانے کی دعا کیوں نا کروں چاہے سورج سوا نیزے پر ہو اور وقت کی بڑی سوئی پگل جائے اور چاہے میرے خواب مزید دس سال دوردکھنے لگیں۔ ایسے ہی اک لمحے کا میں نے انتظار کیا۔ تمہارا انتظار کیا۔ میں ںے خیال کیا تھا کہ تم نےآج سیاہ رنگ کا لباس اور سفید جھمکے پہنےہوں گے۔ تمہاری آنکھوں کی گہرائی کے بارے سوچا۔ تم سے کیا کہنا ہے۔ کیا سننا ہے۔ سب سوچ رکھا تھا۔ آج کے سارے پلینز کینسل کر کہ تمہارا انتظار کیا میں نے۔ تمہاری آواز کی لطافت کو محسوس کیا۔ بال سنوارے۔ تمہارا پسندیدہ پرفیوم لگایا۔۔۔ یقین مانو وہ لمحہ میری فرض کی ہوئی خوبصورتی سے زیادہ خوبصورت تھا۔ تمہاری آنکھیں زیادہ گہری تھیں اور کاجل کا تو خیال ہ...

Comments
Post a Comment